میرے نبی کا روضہ
- Jan 1, 2015
- 3 min read
سلطان نور الدین زنگی عشاء کی نماز پڑھ کر درود شریف پڑھتے پڑھتے سو گۓ کہ اچانک اٹھ بیٹھے اور نم آنکھوں سے فرمایا میرے ہوتے ہوۓ میرے آقا میرے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو کون ستا رہا ہے . آپ اس خواب کے بارے میں سوچ رہے تھے جو مسلسل تین دن سے آ رہا تھا اور آج پھر چند لمحوں پہلے انھیں آیا ، جس میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دو افراد کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ مجھے ستا رہے ہیں . اب سلطان کو قرار کہاں تھا ، انہوں نے چند ساتھی اور سپاہی لے کر دمشق سے مدینہ جانے کا ارادہ فرمایا . اس وقت دمشق سے مدینہ کا راستہ ٢٠-٢٥ دن کا تھا مگر آپ نے بغیر آرام کیلئے یہ راستہ ١٦ دن میں طے کیا . مدینہ پہنچ کر آپ نے مدینہ آنے اور جانے کے تمام راستے بند کروائے اور تمام خاص و عام کو اپنے ساتھ کھانے پر بلایا . کھانا کھا لینے بعد تحائف دیئے گئے اور سلطان نے خود تقسیم کئے ۔ ہر چہرہ دیکھتے مگر آپکو وہ دو چہرے نظر نہ آئے ۔
اب سلطان کو فکر لاحق ہوئی اور آپ نے مدینے کے گورنر سے پوچھا کہ کیا کوئی ایسا ہے جو اس دعوت میں شریک نہیں . جواب ملا کہ مدینے میں رہنے والے سب موجود ہیں ۔ پھر کچھ دیر سوچ بچار کرکے کہا کہ دو لوگ موجود نہیں ہیں جو روضۂ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قریب ایک مکان میں رہتے ہیں . تمام دن عبادت کرتے ہیں اور شام کو جنت البقیع میں لوگوں کو پانی پلاتے ہیں ۔
سلطان نے ان سے ملنے کی خواہش ظاہر کی ، دونوں زائر بظاہر بہت عبادت گزار لگتے تھے . انکے گھر میں تھا ہی کیا ایک چٹائی اور دو چار ضرورت کی اشیاء .
یکدم سلطان نے اپنی تلوار نیام سے نکالی اور فرش کو ٹٹولنا شروع کردیا ، سب حیرانی سے اس منظر کو دیکھ رہے تھے کہ ایک جگہ سے سلطان کو فرش کھوکھلا محسوس ہوا ۔ آپ نے چٹائی ہٹا کے دیکھا تو وہاں ایک سرنگ تھی . سلطان سرنگ میں داخل ہوا ، کافی دیر کے بعد سلطان کی واپسی ہوئی تو فرمایا کہ یہ سرنگ تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک تک جاتی ہے ۔ سلطان اس سارے معاملے کے بعد بہت غضبناک تھا .
دونوں زائرین سے پوچھا گیا کہ سچ بتاؤ کہ تم کون ہو اور تم دونوں کے عزائم کیا ہیں ؟ حیل و حجت کے بعد انہوں نے بتایا کے وہ نصرانی ہیں اور اپنی قوم کی طرف سے اس کام پر مامور ہین کہ مسلمانوں کے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے جسد اطہر کو یہاں سے منتقل کرسکیں . سلطان یہ سن کر رونے لگا ، اسی وقت حکم دیا کہ ان دونوں کی گردنیں اڑا دی جائیں . ان کی لاشوں کو بطور عبرت لٹکایا گیا اور پیغام دیا کہ جو بری نظر رکھے گا ، اسکے ساتھ یہی سلوک ہوگا ۔
ان معامکات سے فراغت کے بعد سلطان روتے جاتے اور فرماتے جاتے تھے کہ " میرا نصیب کہ پوری دنیا میں سے اس خدمت کے لئے اس غلام کو چنا گیا ".
اس ناپاک سازش کے بعد ضروری تھا کہ ایسی تمام سازشوں کا ہمیشہ کہ لیے خاتمہ کیا جاۓ ، سلطان نے معمار بلاۓ اور قبر اقدس کے چاروں طرف خندق کھودنے کا حکم دیا یہاں تک کے پانی نکل آئے . سلطان کے حکم سے اس خندق میں پگھلا ہوا سیسہ بھر دیا گیا . سیسے کی یہ خندق آج بھی روضۂ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے گرد موجود ہے .









Comments